معاملاتِ زمانہ تو سب نِمٹ گئے ہیں

معاملاتِ زمانہ تو سب نِمٹ گئے ہیں
مگر ہم اپنے کئی دوستوں سے کٹ گئے ہیں
ہر ایک پیڑ پہ لِکھا تھا ہم نے نام تِرا
ہر ایک پیڑ سے یہ سوچ کر لِپٹ گئے ہیں
یہ کِس نے باغ کا رستا دِکھایا صحرا کو
ہَوا چلی ہے تو مٹی سے پٌھول اَٹ گئے ہیں
مخالِفت بھی انہیں ٹھیک سے نہیں آتی
مِرے خلاف مِرے گھر کے لوگ بَٹ گئے ہیں
قبولیت کی گھڑی منتظر کھڑی ہے مگر
مِلے بغیر اسےگھر کو ہم پلٹ گئے ہیں
عابِد ملِک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے