ماں کی مامتا

ماں کی مامتا
امیر تیمور گورکانی درّۂ کانہول میں جو گلاب و یاسمین کے سرخ و سفید پھولوں کے ایک حسین ابر پارے سے چھپا ہوا تھا،عیش و نشاط اور ناؤ نوش میں مشغول تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔ سمر قندی شاعروں نے اِس درّے کو "پروازِ گل "کے نام سے موسوم کیا تھا۔ اِس دلچسپ مقام سے شہر کے تمام آسمان شکوہ مینار اور مساجد و معابد کے سبز گنبد بخوبی نظر آتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ درّہ کی لمبائی کے گرد پندرہ ہزار رنگین قناتیں بڑے بڑے پنکھوں کی طرح زمین پر قائم تھیں اور اُن پر دیبا و پرنیاں کی جھنڈیاں۔۔۔۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا تھا، جاندار پھول ہوا میں تیر رہے ہیں۔
تیمور کا خیمہ اِن قناتوں اور چھولداریوں کے درمیان ایک خوبصورت ملکہ کی طرح نظر آتا تھا۔ جو اپنی خواصوں اور کنیزوں کے حلقہ میں کھڑی ہو۔۔۔۔۔۔ اُس کے خیمے کی قنات، زمین کا مربّع حِصّہ گھیرے ہوئے تھی۔ جس کے چاروں حِصّے تقریباً سو قدم طویل اور تین نیزوں کے برابر بلند تھے۔ خیمہ بارہ طلائی ستونوں پر قائم تھا۔ جو درمیانی حِصّے کے نیچے نصب تھے اور اِس غرض سے کہ کہیں یہ رنگ و بو کا ارضی ابر آسمان کی طرف نہ اُڑ جائے، پانسو سُرخ ریشمیں طنابوں کے ساتھ محکم کر دیا گیا تھا۔ خیمے کے چاروں گوشوں میں ایک ایک چاندی کا بنا ہوا شاہین جو صنعت کا نفیس ترین نمونہ تھا بٹھایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ خیمے کے بیچ میں پانچواں شاہین خود تیمور تھا۔۔۔۔۔۔ وہ شہنشاہ جو نہیں جانتا تھا، مغلوب ہونا کسے کہتے ہیں؟
تیمور کا لباس بہت کشادہ تھا۔ جو آبی رنگ کی زیبا سے تیار کیا گیا تھا اُس پر پانچ ہزار سے زیادہ مروارید کے دانے ٹکے تھے۔ سر پر سفید اور شکستہ کلاہ جس کے نیچے سے اُس کے سپید و سیاہ بال باہر نکل رہے تھے۔ اُس کی آنکھوں سے جو چاروں طرف نگران تھیں، خون کا جوش اُبل رہا تھا!
اُس کی آنکھیں چھوٹی اور تنگ تھیں، مگر ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔ دیکھ سکتی تھیں۔۔۔۔۔ اُن سے زہر کی سی سردی اور خنکی ٹپک رہی تھی! شہنشاہ کے کانوں میں سراندیپ کے عقیق کے دو گوشوارے تھے۔ رنگ میں حسین و جمیل دوشیزاؤں کے ہونٹوں سے ملتے جُلتے ! !
خیمے میں نہایت نفیس اور قیمتی قالین بچھے تھے جن پر عیش و عشرت کا سامان مہّیا تھا۔ ایک طرف مُغنیّوں اور سازندوں کا ہجوم تھا۔۔۔۔ تیمور کے نزدیک اُس کے عزیز و اقربا، دوسرے بادشاہ، خوانین اور فوجی افسر بیٹھے تھے۔ سب سے زیادہ نزدیک اُس کے دربار کا شاعر "کرمانی ‘‘۔۔۔۔۔۔ اپنے کیفِ معنوی میں مخمور نظر آتا تھا!
یہ وہی کرمانی ہے جس سے ایک دن تیمور کی اِس طرح گفتگو ہوئی تھی۔
"کرمانی! اگر مجھے فروخت کیا جائے تو تم کتنے میں خریدو گے ؟ تیمور نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
"پچیس سپاہیوں کے معاوضے میں۔ "کرمانی کا جواب تھا۔ یہ تو صرف میرے زریں پٹکے کی قیمت ہے ! "تیمور نے غضبناک ہو کر کہا۔
"میں نے بھی تو اِسی پٹکے کی قیمت لگائی۔ ورنہ خود آپ کی ذات کے لیے تو کوئی ایک درم بھی نہ دے گا۔ کرمانی نے بیباکی سے جواب دیا۔
کیسا زبردست اور جابر شہنشاہ!۔۔۔۔ کس قدر دہشت انگیز! !۔۔۔۔ کس قدر ہولناک! ! !۔۔۔۔۔ اور کرمانی کی یہ بے خوف گفتگو! !۔۔۔۔۔کیا اِس حق گو شاعر کی شہرت، تیمور کی شہرت سے زیادہ بُلند ہونے کا حق نہیں رکھتی؟
یکایک۔۔۔۔۔ اِس بزمِ نوشا نوش کے مترنّم اور خوشگوار، ہنگاموں میں ایک آواز۔۔۔۔۔ جس طرح بادلوں سے بجلی کوند جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ "یئیلدرم بایزید "کے مغلوب کرنے والے کے کانوں میں آئی۔
یہ آواز۔۔۔۔۔۔ ایک عورت کی آواز تھی جو ایک غضبناک شیرنی کی طرح سنائی دی! !
تیمور کے انتقام جُو اور زخمی دل کو، جو اُس کے فرزندِ دلبند کے ضائع ہو جانے کے سبب سے تمام دُنیا اور دُنیا والوں کے خلاف غیظ و غضب سے لبریز ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ آواز ایک آشنا سی آواز معلوم ہوئی! جامِ عشرت اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اُس کے لبوں پر ایک اضطراری لہر دوڑ گئی۔ یہ لہر کہہ رہی تھی۔ "یہ دلخراش آواز کہاں سے آئی؟ ”
حکم کی تعمیل "بندگانِ دولت "کی گھبراہٹ نے کی، جو چاروں طرف دوڑ گئے تھے۔ شہنشاہ کو جواب ملا۔ "یہ ایک دیوانی عورت کی آواز ہے جو کسی طرح یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ شکل و صورت سے فقیرنی معلوم ہوتی ہے، عربی میں گفتگو کرتی ہے اور "فرمانروائے بحر و بر "کی آستاں بوسی کی خواہشمند ہے "!
"فوراً حاضر کی جائے "! ! تیمور نے حکم دیا اور۔۔۔۔۔ عورت خیمے میں داخل ہوئی۔۔۔۔۔۔ برہنہ پا! پھٹے ہوئے کپڑے ! سینہ چھُپانے کے لیے اپنی زلفیں بکھیرے ہوئے ! چہرہ کا رنگ اُڑا ہوا۔۔۔۔۔۔ بغیر کسی کپکپاہٹ کے، جو ایسے با جاہ و جلال اور ہیبت ناک شہنشاہ کی موجودگی کا ادنیٰ سا خراج تھا۔۔۔۔۔ اُس نے دونوں ہاتھ شہنشاہ کی طرف پھیلا دیے اور بے باکانہ۔۔۔۔۔ خود فراموشانہ لہجہ میں گویا ہوئی:۔
"کیا تُو ہی وہ فرمانروا ہے جس نے سلطان بایزید کو مغلوب کیا ہے ؟ ”
ہاں میں ہی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں نے ہی بایزید کو اور بایزید ایسے کئی بادشاہوں کو مغلوب کیا ہے ! بتا تُو کیا چاہتی ہے ؟ "تیمور نے جواب دیا۔
"سُن اے امیر! تُو جو کچھ بھی ہے اور جس حیثیت میں بھی ہے پھر بھی ایک آدمی ہے ! لیکن میں۔۔۔۔۔۔ آہ! میں ایک ماں ہوں۔ تُو موت اور ہلاکت کی خدمت کرتا ہے، میں زندگی اور سلامتی کی خدمت کرتی ہوں۔۔۔۔۔ تُو انسان کو ہلاک کرتا ہے۔ میری گود میں اُس کی پرورش ہوتی ہے۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ تیرے عقیدے میں انصاف کرنا توانائی میں داخل ہے۔ مگر مجھے یقین نہیں آئے گا، جب تک تُو میری فریاد کو، میری داد کو نہیں پہنچے گا۔ "عورت نے کمالِ تمکین و وقار کے لہجہ میں کہا۔ "اِس لیے کہ میں ایک ماں ہوں! ایک دُکھیاری ماں! ! ”
تیمور نے عورت کی بے خوفی اور بے پروائی کو حیرت سے دیکھا۔ اُس کو بیٹھنے کی اجارت دی۔ "میں سُن رہا ہوں، تم اصل واقعہ سناؤ۔ ”
عورت، شہنشاہ کے سامنے چار زانو ہو بیٹھی اور کہنے لگی۔ "امیر! میں سالرمو کی رہنے والی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تُو نے ہر گز اِس جگہ کا نام نہ سنا ہو گا۔ کیونکہ وہ دُور ہے۔۔۔۔۔ یہاں سے بہت ہی دُور!۔۔۔۔۔ میرا باپ اور شوہر ماہی گیر تھے۔ ایک دن بحری قزّاقوں نے چھاپا مارا اور ‘‘۔۔۔۔۔ اُس نے روتے ہوئے کہا۔ "دونوں قتل کر ڈالے۔ میرے ‘‘۔۔۔۔۔۔ اُس کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ "میرے لختِ جگر کو جو نہایت خوب صورت تھا۔ "تیمور کے منہ سے آہ نکل گئی۔ اُس نے دل ہی دل میں کہا۔ "خوبصورت!۔۔۔۔۔۔۔ میرے لڑکے جہانگیر کی طرح؟ آہ! "عورت نے اپنا قِصّہ جاری رکھتے ہوئے اور آنکھوں سے سیلابِ درد بہاتے ہوئے کہا۔ "بے رحم قزّاق میرے لڑکے کو پکڑ کر لے گئے۔ آج چار سال!۔۔۔۔۔۔ آہ! پورے چار سال گزرے کہ میں اُس کی تلاش میں دیوانہ وار چاروں طرف پھرتی ہوں مگر کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔۔۔۔۔ امیر! میں سمجھتی ہوں۔ میرا لڑکا تیرے پاس ہے، کیونکہ بایزید کے لشکر نے اُن بحری قزّاقوں کو گرفتار کر لیا تھا اور تُو نے بایزید کو شکست دے کر اُس کا سب کچھ چھین لیا ہے۔۔۔۔۔۔ضرور ہے کہ میرا لڑکا تیرے پاس ہو گا اور اِس لیے میں چاہتی ہوں تُو اُسے میرے سپرد کر دے "!
حاضرینِ دربار عورت کی باتوں پر ہنس پڑے "یہ دیوانی ہو گئی ہے ‘‘۔
شاعر کرمانی نے کہا۔ "ہاں یہ دیوانی ہے۔ مگر ایک ماں کی طرح "!
تیمور نے دریافت کیا۔ "بڑھیا! تُو کس طرح اِس قدر دُور دراز راستوں سے اِس جگہ آ پہنچی ؟ تُو نے ایسے ایسے پہاڑ اور جنگل کیونکر طے کئے ؟راستے میں وحشی لُٹیروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھوں سے کیسے بچی؟ ”
آہ! ماں کی محبّت! !۔۔۔۔۔۔ ماں کی ہمیں پرستش کرنی چاہئیے۔ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جو ماں کی محبّت کے راستے میں حائل اور مانع ہو سکے انسان کے تمام کامل صفات و حسنات۔۔۔۔۔۔ سب ماں کے دودھ کی چھاؤں میں پرورش پاتے ہیں۔۔۔۔۔ ! ! پھُول، آفتاب کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔ نیک بختی محبّت کے بغیر نصیب نہیں ہوتی! محبّت، عورت کے بغیر ممکن نہیں اور شاعر اور سپاہی کوئی بھی ماں کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ !
مظلوم عورت نے مکرّر کہا۔ "تیمور! میرا لڑکا مجھے دلا دے ! ”
شاعر کرمانی بولا۔ "ماؤں کی ہمیں پرستش کرنی چاہئیے۔ اِس لیے کہ وہ ہمارے لیے بڑے بڑے آدمی پیدا کرتی ہیں اور آدمیوں کو بلند مرتبہ پر پہنچاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ارسطو، فردوسی اور سعدی اپنی شہد آمیز شیریں زبانی کے ساتھ۔۔۔۔۔ عمر خیّام اپنی شراب کی سی زہر آلود رباعیوں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ سکندر، ہومر اور بہرام گور۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب عورت کے، ایک ماں کے بچّے ہیں "!
تیمور اُس وقت عورت کی باتوں سے کسی گہری فکر میں چلا گیا۔ پھر سر اُٹھا کر۔۔۔۔۔ اُس نے حکم دیا کہ "تین سو شہسوار فوراً اُس لڑکے کی تلاش میں روانہ ہو جائیں، جو شخص ڈھونڈ کر لائے گا۔ اُسے انعام دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ "پھر اُس نے آہ بھر کر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ "میں سمجھ گیا۔ یہ عورت اِس قدر بے پروا اور بے خوف کیوں ہے ؟ چونکہ وہ ماں ہے !۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک محبّت کرنے والی ماں! اور کوئی ماں نہیں ہوتی جو محبّت نہ کرتی ہو! ! لڑکے کے کھو جانے سے اِس کے دل میں آگ سی بھڑک رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی آگ! جو برسوں تک، قرنوں تک شرارے چھڑک سکتی ہے۔ ”
تیمور کے حکم جاری کرنے پر کرمانی کی شاعرانہ اور درد آشنا روح وجد میں آ گئی اور اُس نے فی البدیہہ یہ اشعار موزوں کر لیے :۔
ماں
یہ کون نغمہ ہے ساری دنیا کے نغمہائے طرب سے شیریں
جو انجمِ آسمان و گلہائے باغ کا عکس بن رہا ہے
کوئی بتائے بھلا وہ کیا ہے ؟
زمانہ کے اہلِ ذوق میں سے ہر ایک کا یہ خیال ہو گا
کہ وہ محبت ہے، جس سے یہ خاکدانِ تیرہ سنور رہا ہے
حریمِ ہستی مہک رہا ہے !
وہ چیز، جو آفتابِ نصف النّہار اُردی بہشت سے بھی
ہزار درجہ زیادہ اچھی ہے، خوبصورت ہے، خوشنما ہے
کوئی بتائے بھلا وہ کیا ہے ؟
فضائے شبگوں میں مَیں نے دیکھے ہیں مسکراتے ہوئے ستارے
میں جانتا ہوں کہ چشمِ محبوب سارے پھولوں سے خوشنما ہے
شراب گوں ہے، شراب زا ہے !
میں جانتا ہوں کہ اس کا اِک ہلکا ہلکا سا نازنیں تبسّم
دل شکستہ کے حق میں کس درجہ مہر انگیز و مہر زا ہے
لبِ تکلّم کا معجزہ ہے ! کرشمہ آرائی ہائے احساسِ حسن کے باوجود اب تک
نہ کہہ سکا کوئی شاعر آخر، وہ نغمۂ دل پذیر کیا ہے ؟
جو سب سے بہتر ہے، دلربا ہے
مگر میں کہتا ہوں اب کہ وہ نغمہ آہ!وہ دلگداز نغمہ
جو ساری دنیا کے سارے رنگیں ترانوں کا اصل مبتدا ہے
جو قلبِ فطرت کا آئینہ ہے !
وہ نغمہ، وہ کائنات کا،کائنات کا سحر کار دل ہے ! !
وہ دل کہ جس کا جہان والوں نے پیار سے نام ماں رکھا ہے ! !
وہی محبت کی ابتدا ہے ! !
وہ ہی محبت کی انتہا ہے ! !
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے