ماں کا دل

ماں کا دل
چاندنی رات تھی۔۔۔۔۔۔ ایک مستانہ خرام جوئبار کے کنارے ! دولہا، دلہن راز و نیاز کی باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔ محو تھے ! نئی نویلی دلہن اپنے حُسن و جمال کی رنگینیوں پر مغرور! اور نوجوان دُولہا! اپنی جوانی کے جوش و خروش میں چُور۔۔۔۔۔۔ نظر آتا تھا۔ چاندنی اُن کی بے خودانہ و خود فراموشانہ حالت پر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ !
نوجوان دولہا نے کہا:۔
"کیا تمہیں میری انتہائی محبّت کا، اب بھی یقین نہیں آیا؟ دیکھتی ہو! میں نے اپنی زندگی کا عزیز ترین اور بیش بہا ترین سرمایہ۔۔۔۔۔ اپنا دل تم پر قربان کر دیا ہے ! نثار کر دیا ہے ! ! ”
دُلہن نے اپنی نغمہ ریز آواز میں جواب دیا۔
"دل قربان کرنا تو محبّت کے راستے میں پہلا قدم ہے ! میں تمہاری محبت کا اِس سے بہتر ثبوت چاہتی ہوں! تمہارے پاس اپنے دل سے کہیں زیادہ بیش بہا اِک موتی ہے اور وہ تمہاری ماں کا دل ہے۔ اگر تم اُسے نکال کر مجھے لا دو تو میں سمجھوں کہ ہاں تمہیں مجھ سے محبت ہے ! ”
نوجوان دُولہا ایک لمحہ کے لیے گھبرا سا گیا۔ اُس کے خیالات میں ایک قیامت سی برپا ہو گئی۔۔۔۔۔۔ مگر بالآخر "بیوی کی محبّت "”ماں کی محبّت "پر غالب آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِسی مجنونانہ، مسحورانہ حالت میں اُٹھا اور اپنی ماں کا سینہ چیر کر، اُس کا دل نکال کر اپنی دلہن کی طرف لے چلا۔۔۔۔۔ اضطرابِ عجلت میں پیر جو پھِسلا تو نوجوان دُولہا زمین پر گِر پڑا اور اُس کی ماں کا خون آلود دل، اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر خاک میں تڑپنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ ! اُس دل میں سے نہایت آہستہ شیریں اور پیار سے لبریز آواز آ رہی تھی!
"بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟ ”
(جرمن افسانہ)
اختر شیرانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے