ماں

 ماں 
اللہ رب العزت کاکروڑہا شکرہے کہ اُس نے ہمیں بطورِ انسان پیدافرمایا اور پھر ایک اور حسانِ عظیم یہ بھی کیا کہ ہمیں نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کی اُمت میں پیدا فرمایا جس کے بارے خود اللہ تعالٰی اپنی آخری اور داٸمی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے کہ تم بہترین امت ہو جواچھاٸی کا حکم دیتے ہو اور براٸی سے منع کرتے ہو۔یعنی اوامر و نواہی پی عمل پیرا ہو۔۔۔۔۔۔۔
قارٸینِ محتشم! اُسی کتاب میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔
اگربڑھاپے کی حالت میں تمھیں دونوں یا ان میں سے ایک بھی ملے تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
اُن کے لیے دعا کیا کرو کہ اے میرے رب ! میرے والدین پرشفقت فرما جس طرح انھوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا تھا ۔
حضراتِ گرامٸ قدر! دنیا میں آکر ہم کٸی قسم کے رشتوں ناتوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔کہیں یاری دوستی کارشتہ، کہیں بہن بھاٸیوں کارشتہ،کہیں چچاٶں پھپھیوں کارشتہ،کہیں خالاٶں ماموٶں کا رشتہ،کہیں بھابھی دیور اور کہیں سالی بہنوٸی کا رشتہ ۔
الغرض ہم جتنے بھی رشتوں میں بندھتے ہیں میری تحقیق ومشاہدے کے مطابق اُن میں صرف ماں اور باپ کا رشتہ ایساجو بے غرض،بےلوث اورہرقسم کےلالچ سے مبرا ہے باقی دنیا کےسب رشتے آہستہ آہستہ یا وقت آنے پر تحلیل ہوجاتے ہیں مگروالدین کارشتہ پیداٸش سےلےکر مرنے کے بعد بلکہ قیامت تک قاٸم رہنے والا ہے۔
میں نے جب اس دنیا فانی میں آنکھ کھولی تومیری ماں اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھیں اور بالوں میں کہیں کہیں چاندی اُتررہی تھی۔ماں کسی سکول،مدرسہ،کالج یایونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نہ تھی ۔میرے خیال سے میری ماں اُسی درسگاہ سے فارغ التحصیل تھی جسکےبارے ہادٸ برحقﷺ نے فرمایا کہ ماں کی گود سے گورتک علم حاصل کرو۔یہی وجہ تھی کہ ماں کے ہرکام میں ایک سلیقہ،ترتیب اورحسنِ اہتمام پایا جاتا تھا۔عموماً ہماری آنکھ مدھانی کی آواز کےساتھ کُھلتی جومیری ماں نمازو درود سے فارغ ہوکر دہی کو بلونے کی خاطرچاٹی میں ڈال چکی ہوتی ۔ہم سارے بھاٸی فوراً ہاتھ منھہ دھو مسجد کارُخ کرتے ۔نماز سیپارے سے فارغ ہوکرگھر لوٹتے تو لسی کا ایک ایک گلاس اور مکھن کاچمچہ ہمارا انتظار کررہا ہوتا جو ہماری ماں زبردستی ہمارے منھ میں ڈال دیتیں۔ پھرناشتہ ۔ پھر سکول کی تیاری۔ہرکام میں ایک ترتیب۔ہمیں کبھی محسوس ہی نہ ہوا کہ پریشانی نامی چیز بھی زندگی میں ہوتی ہے۔میری زندگی میں کٸی اکتیس مارچ آٸے جب مجھے سکول بھیج کر میری ماں اپنی بہن یعنی میری خالہ کے ساتھ سکول سے ہمارے گاٶں کےدرآمدی رستے پرگلی میں چارپاٸی بچھاکرمیرے پاس ہونےکا انتظار کرتیں اور میں شرارتًا ہی آدھا کلومیٹرپیچھے رونے والا منھ بناکر ماں کے سامنے آجاتا۔ماں مجھے دبکا کرپوچھتی کہ کیا بنا تمھارا؟میں دو تین آہیں بھر کر اعلان کرتا کہ آپ کا بیٹا پاس ہے تو بےاختیار ماں کی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسوگالوں پر رینگ جاتے۔میری خالہ جن کی شادی ہمارے ہی گاٶں میں ہوٸی تھی حسد اور رشک کے ملےجلے جذبات سے مغلوب ہوکرکہتی ۔بہن! میں نہ کہتی تھی کہ تیرا بیٹا فیل ہوہی نہیں سکتا۔ماں دوپٹے کے پلو سے دس بیس روپے کھول کر مجھے دیتی کہ فوراً ٹافیاں لا کر بانٹو اور خالہ کو سب سے پہلے دینا۔
میں تعلیمی زندگی سے آہستہ آہستہ عملی زندگی کرطرف منتقل ہوتا گیا اور باپ کے ساتھ ساتھ میری ماں بھی میرےلیے مضبوط سہارا بنتی گٸی۔مجھے نہیں یاد کہ میں نے اپنی زندگی میں آنے والی کسی پریشانی کابرملا اظہار اپنی ماں سے کیا ہو مگر میری ماں سب جانتی ہوتی۔میری پیشانی پراُبھرنے والی آڑھی ترچھی لکیروں سے ،میری خاموشی سے اور کھانے میں عدم دلچسپی سے ماں کوفوراً پتہ چل جاتا کہ میں پریشان ہوں حالانکہ ماں نے کہیں سے بھی علمِ نجوم یا علمِ قیافہ نہیں سیکھا تھا ۔ماں کو پتہ چل جاتا تو میری پریشانی کافور۔پھرپریشانی جانے اور ماں جانے۔اور ہاں اُس پریشانی کے خلاف واحد ہتھیار میری ماں کےپاس صرف جاٸے نماز تھااوراللہ رب العزت کے حضور کی گٸی اشکوں سے بھرپور دُعا۔
اپنے خاوندکی سب سے زیادہ وفادار اور خدمتگار میں نے اپنی ماں کو پایا ہے۔بڑھاپے تک میری ماں نے میرے والد کی اطاعت وفرمانبراری کی۔ہم سےکوٸی غلطی ہوجانےپرمیری ماں نے کبھی ہمیں باپ سے ڈرایا نہیں بلکہ احساس دلایا۔والدِ محترم چونکہ عمارتوں کی تعمیر کاکام کرتے تھےاس لیے جیسے ہی شام کو تھکے ہارے گھرلوٹتے موسم کے مطابق ٹھنڈا یا گرم مشروب اُن کا انتظار کررہاہوتا اور ہمارے ہاتھ تاکہ اُن کی ٹانگیں اور سر دبا سکیں۔
ماں نے کبھی پسند نا پسند کااحساس نہ ہونے دیاجوملتا وہ خوشی خوشی کھا لیتیں تاہم ہمارے والد کی خواہش کوہمیشہ مقدم رکھا اور کام پہ جانے سے پہلے رات کے سالن بارے ان سے پوچھنا نہ بھولتیں۔ایک چیز جو میں نے ماں کو تواتر سے کھاتے دیکھا وہ رات کی باسی تنوری روٹی اورشکرملا دہی وہ قریبًا ہرروز کھاتی تھیں کٸی دفعہ میں نے بھی خواہش کی مگر دولقموں کے بعد ہی ہاتھ کھینچ لیا۔گانے، موسیقی اور ٹیلیوژن سے میری ماں کو رتّی برابر دلچسپی نہ تھی تاہم کبھی کام میں بہت زیادہ منہمک ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی مدھم آواز میں پرانی لوریاں گنگناتی رہتیں۔جب کبھی استفسار کیا تو ایک آدھ شعر ہم کو بھی سنادیا جس میں ماٸیں نی ماٸیں اور میرے بابلا جیسے الفاظ کی کثرت ہوتی۔چھبیس مارچ دوہزار تیرہ کادن میرےلیے بڑاحُزن وملال کادن تھا جب صبح سات بج کر تیس منٹ پر میری ماں پچاسی برس اس وادٸ پُرخار میں گزار کرراہی ملکِ عدم ہوٸیں۔ماں کیا گٸی گویا زندگی ایک گھنےاور سایہ داردخت سے محروم ہوگٸی۔زندگی بے آب و گیاہ صحرا لگنے لگی جس میں دور دور تک نہ پانی نہ سبزہ نہ کوٸی خودرو پودا جوتھکے ہارے مسافر کوکچھ دیر تک سراب کی کوفت سے بچا سکے۔ آج جب میں اپنی ماں کا موازنہ دور حاضر کی جدید ماٶں سے کرتا ہوں تویقین کریں دل مسوس کررہ جاتا ہوں۔آج کی ماں دورِ حاضر کے علومِ جدید سے بہرہ ور ہے۔کمپیوٹر چلاناجانتی ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہے مگر اس کی ممتا شیلڈ کے فیڈر،ماسٹر کے پیمپرز اورنیسلے کےدودھ میں دفن ہوچکی ہےیہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں سے ماں سے محبت ،اطاعت وفرمانبرداری جیسے جذبات دم توڑتے جارہےہیں۔
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے