م نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا

م نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا
آگ کو پیرہن خاک سے باہر رکھا
زیب تن ہم نے بھی کر رکھی یہ دنیا لیکن
تیرے ہر رنگ کو پوشاک سے باہر رکھا
خواب در خواب تجھے ڈھونڈنے والوں نے بھی اب
نیند کو دیدۂ نمناک سے باہر رکھا
اک طرح دھیان ہی ایسا کہ جسے ہم نے یہاں
نفع نقصان کے پیچاک سے باہر رکھا
اجرت عشق بہت کم تھی سو ہم نے شہزادؔ
دل کو اس تنگئ افلاک سے باہر رکھا
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے