لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے

لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے
تب کہیں جا کے دعاوں میں اثر آتا ہے

صرف وہ شخص ہی آواز پہ رکھتا ہے نظر
جس کو احساس بدلنے کا ہنر آتا ہے

یک بہ یک سوچ کے زینے پہ قدم رکھتے ہوئے
لفظ قرطاس کے سینے پہ اتر آتا ہے

یہ مری دربدری کوئی تماشا تو نہیں
میں جدھر جاتا ہوں یہ چاند ادھر آتا ہے

بد دعا کرتے ہوئے یہ تو نہیں سوچا تھا
زد پہ طوفان کی اپنا بھی تو گھر آتا ہے

وقت کی قید سے آزاد تو ہو جاؤں مگر
میں قفس توڑوں تو پاتال کا در آتا ہے

میں نے پھولوں کو نگاہوں میں بسایا ہے عدید
میری راہوں میں بھی خوشبو کا نگر آتا ہے

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے