لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں

لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں
ہم شاہ غم تھے ہم کو یہی رانیاں ملیں
صحراؤں میں بھی جا کے نظر آئے سیل آب
دریا سے دور بھی ہمیں طغیانیاں ملیں
آیا نہ پھر وہ دور کہ جی بھر کے کھیلئے
بچپن کے بعد پھر نہ وہ نادانیاں ملیں
رہ کر الگ بھی ساتھ رہا ہے کوئی خیال
تنہائی میں بھی خود پہ نگہبانیاں ملیں
پانی کے ساتھ عکس بھی بہہ کر چلے گئے
سوکھی ندی تو پھر وہی ویرانیاں ملیں
اپنی ہی آنکھ پر گئے لمحوں کا بوجھ تھا
اس کی نظر میں تو وہی جولانیاں ملیں
بیٹھا رہا ہمائے ستم سر پہ ہی عدیمؔ
ہر دشت کرب کی ہمیں سلطانیاں ملیں
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے