لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت

لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت

جس طرح نیند میں چلنے والے

سانس لینے کو ابھرتی ہے زمیں

کچھ جزیرے ہیں نکلنے والے

دیکھ سیال شفق کی جگمگ

جس طرح رنگ پگھلنے والے

کھوٹ کی طرح الگ ہو گئے لوگ

ہم تھے اک آگ میں جلنے والے

رنگ پوشاک سے اڑ جاتے ہیں

یہ پرندے نہیں پلنے والے

اے ہتھیلی پہ دھرے انگارے

ہم نہیں ہاتھ بدلنے والے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے