Le Ke Qasid Khabar Nahi Ata

لے کے قاصد خبر نہیں آتا

جانے کیوں لوٹ کر نہیں آتا

دل کسی اور پر نہیں آتا

تم سے اچھا نظر نہیں آتا

شکوۂ بے وفائی گل کیا

باغباں تک نظر نہیں آتا

اف یہ تاریکیِ شبِ فرقت

کوئی اپنا نظر نہیں آتا

شب کو میں ان کے گھر گیا تو کہا

دن کو تو اے قمر نہیں آتا

نامہ بر ان کا میں غلام نہیں

جا کے کہہ دے قمر نہیں آتا

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے