لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل
زیادہ خوف زدہ ہے تو اس مکاں سے نکل
ہمارے دل کا تعلق نہیں زمانے سے
سو اپنی خواہش دنیا اٹھا یہاں سے نکل
ترے جمال کی لو تیرے بعد رہ جائے
دیے جلاتا ہوا اس جہان جاں سے نکل
میں رب کے نور سے محو کلام ہوں سر شام
سوئے چراغ دعا تو بھی درمیاں سے نکل
اب اس کے بعد قیامت ہے تو بھی اے شہزادؔ
دعائیں پڑھتا ہوا شہر بے اماں سے نکل
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے