لہو نذر دے رہی حیات

لہو نذر دے رہی حیات
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں
دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں
افق سے تابہ اُفق پھانسیوں کے جھولے ہیں
پھر ایک منزلِ خونبار کی طرف ہیں رواں
وہ رہنما جو کئی بار راہ بھولے ہیں
بلند دعویٰ جمہوریت کے پردے میں
فروغِ مجلسِ زنداں ہیں تازیانے ہیں
بنامِ امن ہیں جنگ و جدل کے منصوبے
یہ شورِ عدل، تفاوت کے کارخانے ہیں
دلوں پہ خوف کے پہرے لبوں پہ قفل سکوت
سروں پہ گرم سلاخوں کے شامیانے ہیں
مگر ہٹے ہیں کہیں جبر اور تشدد سے
وہ فلسفے کہ جلا دے گئے دماغوں کو
کوئی سپاہِ ستم پیشہ چور کر نہ سکی
بشر کی جاگی ہوئی روح کے ایاغوں کو
قدم قدم پہ لہو نذر دے رہی ہے حیات
سپاہیوں سے الجھتے ہوئے چراغوں کو
رواں ہے قافلۂ ارتقائے انسانی
نظامِ آتش و آہن کا دل ہلائے ہوئے
بغاوتوں کے دہل بج رہے ہیں چار طرف
نکل رہے ہیں جواں مشعلیں جلائے ہوئے
تمام ارضِ جہاں کھولتا سمندر ہے
تمام کوہ و بیاباں میں تلملائے ہوئے
مری صدا کو دبانا تو خیر ممکن ہے
مگر حیات کی للکار، کون روکے گا؟
فصیلِ آتش و آہن بہت بلند سہی
بدلتے وقت کی رفتار کون روکے گا؟
نئے خیال کی پرواز روکنے والے
نئے عوام کی تلوار کون روکے گا؟
پناہ لیتا ہے جن مجلسوں میں تیرہ نظام
وہیں سے صبح کے لشکر نکلنے والے ہیں
ابھر رہے ہیں فضاؤں میں احمریں پرچم
کنارے مشرق و مغرب کے ملنے والے ہیں
ہزار برق گرے، لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے