لہو میں تر یہ دیار بھی دیکھنا ہے اک دن

لہو میں تر یہ دیار بھی دیکھنا ہے اک دن
مجھے ترا اختیار بھی دیکھنا ہے اک دن
گزرنا ہے ایک راستے سے ہوا کی صورت
چراغ کو سوگوار بھی دیکھنا ہے اک دن
تلاش کرنی ہے اشک اور آئینے میں نسبت
کسی کی آنکھوں کے پار بھی دیکھنا ہے اک دن
ابھی تو دنیا کی سرد مہری سے لڑ رہا ہوں
سلوک پروردگار بھی دیکھنا ہے اک دن
نیام سے تیغ بھی مجھے کھینچنی ہے شہزادؔ
اور اپنا دل تار تار بھی دیکھنا ہے اک دن
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے