لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں​

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں​
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں​

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ​
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں​

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں​
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں​

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان​
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں​

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن​
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں​


دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی​
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں​

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے​
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے