لفظوں کی شہزادی 

لفظوں کی شہزادی 

وہ لفظوں کی شہزادی
جادوئی محل کی اونچی دیواروں کے پیچھے
قیدِ تنہائی میں لفظوں کو بُنتی
تخیل کے پیراہن بناتی
اُن پر اپنی قید کے نوحے لکھتی
اپنے منتظر لب اُن نوحوں پر رکھتی
پھر انہیں محل کے اونچے روشندان سے….
ہوا کو تاکید کے ساتھ سپرد کردیتی
بوجھل ہوا نے نہ جانے کتنے سندیسوں کو…
خاموش وادیوں میں پہنچایا
شفاف چشموں میں بہایا
پھر ایک دن….
رہائی کا پروانہ لیے
شہزادی کا بھیجا سندیسہ تھامے
داد و تحسین کا عادی ایک شہزادہ
مدتوں سے قید شہزادی کو لینے آن پہنچا
محل کےآہنی دروازے سے صدا لگائی
اپنی آواز شہزادی کو سنائی
بےقرار ہوکر شہزادی کی آواز سننا چاہی
مگر آواز ندارد….
شہزادی اپنی آواز کھو چکی تھی
وہ مدتوں سے نوحے لکھنے والی
اتنے عرصے میں صرف لفظ لکھتی رہی
اب اُن لفظوں کو بولنا بھول چکی تھی

لبنیٰ مقبول غنیمؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے