لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے

لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے
شرح راحت کے لیے غم کی صراحت کے لیے
اب مرا چپ چاپ رہنا امر مجبوری سہی
میں نے کھولی ہی زباں کب تھی شکایت کے لیے
میرے چشم و گوش و لب سے پوچھ لو سب کچھ یہیں
مجھ کو میرے سامنے لاؤ شہادت کے لیے
سخت کوشی سخت جانی کی طرف لائی مجھے
مجھ کو یہ فرصت غنیمت ہے علالت کے لیے
آکسیجن سے شبستان عناصر تابناک
مضطرب ہر ذی نفس اس کی رفاقت کے لیے
مر گئے کچھ لوگ جینے کا مداوا سوچ کر
اور کچھ جیتے رہے جینے کی عادت کے لیے
آہ مرگ آدمی پر آدمی روئے بہت
کوئی بھی رویا نہ مرگ آدمیت کے لیے
کوئی موقع زندگی کا آخری موقع نہیں
اس قدر تعجیل کیوں رفع کدورت کے لیے
استقامت اے مرے دیر آشنائے غم گسار
ایک آنسو ہے بہت حسن ندامت کے لیے
کوئی ناصرؔ کی غزل کوئی ظفر کی مے ترنگ
چاہیے کچھ تو مری شام عیادت کے لیے
گلشن آباد جہاں میں صورت شبنم حفیظؔ
ہم اگر روئے بھی تو رونے کی فرصت کے لیے
حفیظ ہوشیارپوری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے