فروری 5, 2023
qalam
بینا خان کے ناول اب میرے ہو کے رہو سے اقتباس

زوار حویلی آیا اور فریش ہونے اپنے روم میں چلا گیا فریش ہو کے آیا تو دروازہ نوک ہوا
” آجاؤ”
” سائیں بڑے سائیں آپ کو بلا رہے ہیں ” ملازم نے پیغام دیا
” تم جاؤ ہم آتے ہیں ”
ملازم چلا گیا تھوڑی دیر بعد وہ ملک وجاہت کے پاس بیٹھا تھا
” کہاں گم رہتے ہو زوار پتر بڑے دن ہوئے نظر نہیں آئے ہمیں تم کل بھی غائب تھے خیر تو ہے نا پتر کہیں پردادوں کی عادات تو نہ اپنا لیں کہیں ”
” نہیں بابا سائیں بس تھوڑا مصروف تھا”
” ہممم۔۔۔۔۔ یہ مصروفیات جان سکتے ہیں ہم”
” بابا شک کر رہے ہیں مجھ پہ ”
” اونہوں۔۔۔۔۔ شک وہ بھی تم پہ۔۔۔۔۔ غرور ہو تم ہمارا ہمیں فخر ہے اپنے بیٹے ”
” شکریہ بابا سائیں” زوار نے جان بوجھ کے انہیں نہ بتایا زوار کا ارادہ صرف اس لڑکی کی اکڑ توڑنا تھا اور جب وہ اس کی اکڑ توڑ دیتا تو وہ اسے طلاق دے دیتا پر یہ کیا ہوا تھا کہ اس لڑکی کے آگے اس کی ساری اکڑ ختم ہوجاتی تھی اور اکڑو اور مغرور ملک زوار کی جگہ ایک شوخ ملک زوار آجاتا ان کے نکاح کو صرف ایک دن ہوا تھا اور اس لڑکی کا جادو لگتا تھا اب بہت جلد سر چڑھ کے بولے گا
” زوار ہم چاہتے ہیں کہ تم خاقان شاہ سے ہماری ذمین جلد سے جلد آزاد کروالو وہ ڈھیٹ بن کے ہماری ذمینوں پہ قبضہ کیے ہوئے ہے ”
” آپ بے فکر رہیں بابا سائیں میں ہونا دیکھتا ہوں میں کیسے نہیں دیتا واپس اگر سیدھی طرح مانتا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کی ٹانگیں توڑ کے آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا”
” شاباش بیٹے ہمیں تم سے اسی جواب کی امید تھی” وہ خوش ہوئے
” اب جاؤ آرام کرو تم ” اس نے در ہلایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا
وجاہت جانتے تھے وہ کیا کر کے آیا ہے انہیں پتا تھا کہ اس نے ایک لڑکی اٹھوائی ہے لیکن نکاح کس علم ابھی تک نہ ہوا تھا۔
————
ملک زوار اس سے روز بہانے بہانے سے ملنے جانے لگا وہ تنگ آچکی تھی رات کو وہ سونے کے لیے لیٹی تو زوار کی کال آگئی اس نے کال کٹ کردی وہ پھر کال کرنے لگااس نے نمبر بزی کردیا وہ بھی ڈھیٹ تھا کال کیے ہی جارہا تھا جھنجلا کر پریشے نے کال ریسیو کی
” کس سے اتنی دیر سے باتوں میں مصروف تھیں ” وہ غصے سے بولا ” ہمیں آج تک کسی نے انتظار نہیں کروایا اور تمہاری اتنی ہمت۔۔۔۔۔ ہم تمہیں بےجا رعایت دے رہے ہیں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تم ہمارے ساتھ بدتمیزی سے پیش آؤ”
” میں جس سے بھی بات کروں تمہیں کس بات کی تکلیف ہو رہی ہے اور رہی بات انتظار کی تو کرتے رہو میں تم جیسوں کو منہ لگانا پسند نہیں کرتی ور رعایت۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔ رعایت دی کب تم نے مجھے ہاں تم نے تو مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔۔۔ بدتمیزی میں جان بوجھ کے نہیں کرتی تمہارے آفال اکساتے ہیں مجھے”
” ہم نے پہلے بھی کہا تھا تھا کہ ہمیں زیادہ بولنے والی عورتیں سخت ناپسند ہیں ” وہ غصے سے غرایا
” تو میں کیا کروں مجھے کیا لینا دینا تمہاری پسند ناپسند سے میرے لیے صرف اس کی پسند معائنے رکھتی ہے جس سے مجھے محبت ہو اور مجھے تو صرف فواد سے۔۔۔۔۔۔”
” بسسسس۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ زور سے چلایا پریشے ایک دم ڈر گئی
” آئیندہ تمہاری زبان سے یہ نام دوبارہ نہ سنو میں سمجھی”
” اور لگتا ہے شاید اپنی پچھلی باتیں بھول گئی ہو جو ہمیں یوں کہہ گئی ہو کہ ہم جیسوں منہ لگانا پسند نہیں کرتی ذرا اپنے ماضی میں بولی گئی باتوں کو یاد کرو اور پھر ید کرنا کہ ملک زوار اپنی بات کیسے پوری کرتا ہے اور اب تو ویسے بھی تم منہ لگنے کی بات کہہ گئی ہو” پریشے کو یاد کرکے ایک دم جھرجھری آئی اور اس کی آخری بات سن کے تو اس کے ہاتھوں کے طوطے آڑ گئے وہ خاموشی سے سنے گئی
” اور ایک اور بات تمہاری پسند اب ہماری پسند ہے لہٰذا ہماری پسند بھی تمہاری پسند ہو تو بہتر ہے ”
” سہی معائینوں میں تمہیں بیوی اسی دن بنا لیتا پر اس وقت دل تمہاری طرف اس طرح مائل نہیں ہوا تھا جیسے اب ہوا ہے جتنا ٹائم لینا چاہتی ہو لے لو لیکن آنا تم نے میرے پاس ہی ہے” پہلی بات اس نے غصے میں اور دوسری مسکرا کے کی
” ہونہہ۔۔۔۔۔ مجھے ایسے آدمی نہیں پسند جس سےلوگ ڈریں جو دوسرے لوگوں کو پاؤں کی جوتی سمجھیں اور خود کو خدا”
” تو تم بتاؤ نا پریشے تمہیں کیا پسند میں ویسا ہی ہو جاؤں گا میرا یقین کرو ” اس کی ٹون ایک دم بدلی
” یقین وہ بھی تمہارا ” کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اس آدمی کو وہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کبھی یہ وہی گھمنڈی زوار لگتا اور کبھی محبت کرنے والا شوخ سا زوار۔
—————
اگلے دن ملک وجاہت چیختے ہوئے حویلی میں داخل ہوئے
” زوار۔۔۔۔۔ زوار کہاں ہو ؟؟؟ ہماری ناک کٹواؤ گے تم ایک معمولی لڑکی کی خاطر” وہ غصے سے سرخ ہو رہے تھے
” جی ” اس نے اطمینان سے کہا
” تمہیں اگر لڑکیوں کی طلب تھی تو کوئی بھی رکھ لیتے اپنے شوق کے لیے اس سے نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی اب کی جس لڑکی پہ دل آئے گا اس سے نکاح کرتے جاؤ گے ”
” بابا سائیں وہ اب عزت ہے اس حویلی کی ”
” پر پتر وہ ہماری برابری کی نہیں ہے” اماں نے کہا
” اب برابر کی ہو گئی ہے اماں”
” سمجھا دو اپنے بیٹے کو کہ کچھ دن چاہے تو اسے رکھ لے جب تک اس کا دل نہ بھرے اور اس کے بعد اسے اس لڑکی کو طلاق دینی ہوگی”
” آپ یہ کیسے بھول گئے میں بھی آپ ہی کا بیٹا ہوں اور ضد میں آپ سے چار ہاتھ آگے بھی ”
"زوار اب تم حد سے بڑھ رہے ہو”
” ہاں جی بالکل سہی کہہ رہے یں آپ پر اس کی وجہ بھی آپ ہیں ”
” ہم اس لڑکی کی ہستی مٹا دیں گے زوار اگر تم نے اس رشتہ نبھانے کی کوشش کی ”
” تو پھر پہلے اپنے بیٹے کو ختم کریے گا بابا سائیں ” اور کہہ کے وہ رکا نہیں تھا
—————-
خاقان شاہ سے ذمین کے معاملے پر ان دونوں کی بہت زبردست لڑائی ہوئی اور ایک گولی ملک زوار کے ہاتھ کو چھو کے گزر گئی اسے فوری طبی امداد کے لیے پریشے کی کلینک پہ لایا گیا پریشےیک دم پریشان ہو اٹھی ملک وجاہت بھی وہاں پر پہنچ گئے تھے اتنا خون بہنے کے باوجود بھی زوار ایسے بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اسے ماننا پڑا کہ زوار واقعی طاقتور ہے
پریشے کو دیکھ کے زوار کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رینگی پریشے نظرانداز کر کے اس کا زخم چیک کرنے لگی
” ان کا زخم کافی گہرا ہے آپ پلیز انہیں شہر لے جائیں ”
” سنو ڈاکٹرنی میرا بیٹا تکلیف میں ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ اسے ایسی تجلیف میں شہر لے جاؤں تم ہی علاج کرو گی اس کا” ملک وجاہت بولے
” پر۔۔۔”
” تم نے سنا نہیں ہم کیا کہہ رہے” وہ سخت ہوئے تو زوار نے انہیں چپ رہنے کا کہا پریشے کی کوششوں کی وجہ سے خون بہنا رک گیا اس نے زوار کو پین کلر دی اور کچھ دوائیں لکھ کر اسے دیں
———–
اگلے دن وہ حویلی آئی ملک عمار اسے زوار کے کمرے میں لے کر گیا اسے دیکھ کر زوار کا چہرہ کھل گیا
” ذہے نصیب آج تو خود ہماری بیگم چل کے آئی ہیں ” وہ کچھ نہ بولی اور زخموں کا معائینہ کر کے جانے لگی زوار نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے قریب بٹھالیا
” ڈونٹ ٹچ می اوکے” وہ غصے سے بولی اور اٹھنے لگی زوار نے اس کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا
” چھوڑو مجھے میں ایک ڈاکٹر ہوں سمجھ آئی ”
” پر میرے پاس تو میری بیوی بیٹھی ہے”
” مجھے چلنا چاہیے” وہ پھر اٹھی
"ناشتہ آج میرے ساتھ کرو”
میں نے کہا ہے چھوڑو مجھے جانا بات سمجھ نہیں آتی تمہیں ” وہ چلا کے بولی تو زوار نے کھینچ جے اس قریب کیا
” آپ کا زخم تازہ ہے آپ آرام کریں ” وہ بوکھلائی
” میں اتنا کمزور نہیں ہوں جو تکلیفیں برداشت نہ کر سکوں تمہیں یہ جتانا اب ضروری ہے کہ میں تمہارا شوہر ہوں اور طاقتور بھی تم میرے گھر میں میرے کمرے میں میرے سامنے کھڑی یو کے بےعزت کررہی ہو اس کی سزا ہے یا نہیں ”
” زوار پلیز۔۔۔۔ چھوڑیں اچھا ٹھیک ہے میں۔۔۔ میں کرتی ہوں ناشتہ ساتھ” وہ فوراً مان گئی تھی۔
——————
زاور کے زخم اب تقریباً بھر چکے تھے وہ تیزی سے صحت یابی کی طرف لوٹ رہا تھا ایک دن ملک وجاہت اس کے کمرے میں آئے
” بابا سائیں آپ۔۔۔ آئیے” زوار اٹھ کے بیٹھا
” تو کیا سوچا ہے تم نے اس لڑکی کے بارے میں ”
” میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ”
” زوار اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے خاندان میں جتنے عشق معاشقے چلیں لیکن شادی ہم صرف خاندان کی لڑکی سے ہی کرتے ہیں”
” وہ بھی اب اسی خاندان کا حصہ ہے بابا سائیں ” ملک وجاہت طیش میں آ گئے
” زوار اب تم حد سے بڑھ رہے ہو پر تم یہ نہ بھولو کہ ہم باپ ہیں تمہارے ”
” ایک لڑکی نہیں ہو گئی جان کا عذاب ہوگئی ہے ہمارے لیے اس عذاب کو اب ہمیں ہی دیکھنا ہو گا ”
” خبردار بابا سائیں۔۔۔۔۔اگر اسے کچھ ہوا نا تو دنیا کو آگ لگا دوں گا میں ” کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا۔
ملک وجاہت کا غصہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا ایک معمولی لڑکی کے لیے ان کا لاڈلا بیٹا پاگل ہو رہا تھا
زوار اب ایسا نہیں رہا تھا جیسا وہ پہلے تھا اب وہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا چھوڑ چکا تھا جو گھمنڈ اس میں پایا جاتا تھا وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا وہ لوگوں کے کام آنے لگا تھا۔
ھی آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا وہ لوگوں کے کام آنے لگا تھا
——————
، اور یہی سمجھتی تھی کہ وہ ابھی بھی فواد سے محبت کرتی ہے وہ حیران ہوتی اس نے نکاح کے بعد سے اب تک اسے کال تک نہ کی تھی نہ ہی فواد نے پوچھا تھا کچھ لوگوں کو محبت اس وقت تک سمجھ نہیں آتی جب تک وہ ان کے پاس ہوتی ہے اور جب محبت ان سے دور ہو جائے تو وقت انہیں بتاتا ہے کہ محبت تو ان کے کہیں آس پاس تھی بس وہ ہی سمجھ نہ سکے۔
ایک دن اسنے اس گاؤں سے چلے جانا کا فیصلا کیا پھپو کو کال کر کے اس نے یہ کہہ دیا کہ اس نے اسلام آباد کے ایک ہوسپٹل میں اپلائے کیا تھا اور اس کی جاب وہی ہو گئی ہے
” تو بیٹا آ تو جا کتنے ماہ سے ان آنکھوں نے تمہیں نہیں دیکھا ”
” جی پھپو میں مل کے ہی جاؤں گی آپ سے ” پھر ایک دو باتوں کے بعد اس نے فون بند کردیا۔
———————
زوار کے بدلے رویے کو عمار نے بھی نوٹ کیا تھا عمار زوار کے کمرے میں آیا
” کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ” زوار نے اس سے پوچھا ورنہ اس کے سخت رویے کی وجہ سے سب اس کے کمرے میں کم ہی جاتے تھے
” ویسے ہی ادا ” وہ الجھا ہوا لگا
” کیا ہوا ہے یہاں آ کر بیٹھو” وہ آکے بیڈ پہ بیٹھ گیا
” ادا ایک۔۔۔ایک بات پوچھوں آپ سے ” زوار نے سر ہلایا
” ادا آپ کا اتنا بدلا ہوا رویہ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ پہلے تو آپ۔۔۔۔” اس نے ادھوری بات چھوڑ دی تو وہ مسکرایا عمار جو یہ سوچ رہا تھا کہ وہ غصہ ہوگا مسکراتا دیکھ کے حیران ہی رہ گیا وہ زوار جو خاص موقعوں پہ بھی کم ہی مسکراتا تھا آج بنا بات کے ہی مسکرا رہا تھا عمار کو وہ وقت یاد آیا جب کچھ ماہ پہلے اس نے زوار کے پرسنلز اس سے غلطی سے پوچھ لیے تھے تب بھی تو زوار نے اطمینان سے سب سنا تھا اور بعد میں اس کی جو حالت کی تھی سوچ کے ہی وہ ڈر جاتا تھا پر آج۔۔۔۔۔
زوار بولا ” محبت سب کچھ کروا دیتی ہے عمار ”
” محبت؟؟؟ پر ادا کس سے”
” ہمممم۔۔۔۔۔ وہ ڈاکٹر ہے نا پریشے اس سے۔۔۔” اس کا نام لیتے ہوئے اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی "عمار تیری بھابی ہے نا اسے گھمنڈ نہیں پسند تو چھوڑ دیا اسے لوگوں پہ جبر کرنا نہیں پسند تو اب کوشش کرتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے اور مجھے یقین ہے اپنی محبت سے اسے میں جیت لوں گا ویسے مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے”
عمار کو وہ ڈاکٹر یاد آئی کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ بھی زوار سے محبت کرتی ہو گی تبھی وہ بولا
” ادا آپ کو یہ یقین ہے یا الہام؟؟؟”
” ابھی تک تو الہام ہے ویسے بھی محبت میں جب تک الہام نہ ہوں تو فٹے منہ محبت کا” وہ ایسے بولا تو عمار ہنسا
” بیسٹ آف لک ادا” کہہ کر وہ اٹھا اور چلا گیا زوار دیر تک پریشے کو یاد کر کے مسکراتا رہا۔

بینا خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے