لب بستگیِ دل! تجھے معلوم نہیں ہے

لب بستگیِ دل! تجھے معلوم نہیں ہے
یہ بارِ تعلق مِرا منظوم نہیں ہے
یہ ترکِ مراسم کی خبر جھوٹ ہی نکلے
یہ خدشۂ دل آج بھی معدوم نہیں ہے
قاتل ہیں اگر حسن و جوانی کی ادائیں
مانو تو سہی عشق بھی معصوم نہیں ہے
ابہام پسندی کا نتیجہ ہیں وگرنہ
یہ جبرِ حوادث مرا مقسوم نہیں ہے
پلتا ہے غریبوں کی کمائی پہ جو بدبخت
رہزن ہے حقیقت میں وہ مخدوم نہیں ہے
حاصل ہو محبت کو یہاں وصل کی لذّت
ممکن ہے مگر لازم و ملزوم نہیں ہے
تحریرِ مکمل تجھے کتبوں پہ ملے گی
تاریخ کے سینے میں جو مرقوم نہیں ہے
لکّھا ہے کوئی حرفِ تمنا ابھی دل میں
ناصر ابھی دنیا تری مغموم نہیں ہے
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے