لب بستہ ہی رہا میں مگر کچھ سنا تو تھا

لب بستہ ہی رہا میں مگر کچھ سنا تو تھا
مہمان رات بھر مرے گھر میں رہا تو تھا
اے دل گرفتہ ذوقِ جنوں کیا کہوں تجھے
مجھ پر وہ تیز دھوپ میں سایہ کشا تو تھا
یہ اور بات قافلے سرعت سے چل دیے
وہ شخص راہِ زیست میں اَب بھی کھڑا تو تھا
ڈھارس ذرا ہزیمتِ جاں میں بندھی رہی
تھوڑی سی دیر کیلئے طوفاں تھما تو تھا
کر دے عیاں تُو میری کہانی کو اے زمیں !
نقشِ لہو سے نقشِ کفِ پا ملا تو تھا
وہ کم نصیب جس کو ملامت ملی سدا
اس شہرِ کم نصیب میں اہلِ وفا تو تھا
یہ جو وصالِ شب ہے بہانہ ہے ہجر کا
ڈھلتے ہی رات اس نے یہ مجھ سے کہا تو تھا
ناصر یہ غم زمانۂ رفتہ کی بات ہے
اک نام سن کے درد سا دل میں اُٹھا تو تھا
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے