لا کے کگار پر

لا کے کگار پر

عدم تفہیم کی مار پڑنے والی ہے

اتنی مار ۔۔۔اتنی مار ۔۔۔کہ تمہیں پتہ نہیں چلے کہ تم پر کتنی مار پڑی اور کتنی نہیں پڑی

ذرا سوچو کہ تمہیں کوئی خوف ہوگا تو کیا ہوگا

اور خوف نہیں ہوگا تو کیا ہوگا

ایسا معلوم ہوتاہے کہ

محبت اور نفرت ایک دوسرے کی فضول قید میں رکھے گئے لفظِ محض ہی تو تھے

سوال یہ ہے کہ

سوال جواب سے پہلے تھا یا جواب سوال سے پہلے تھا

شاعری ،شاعری سے پہلے کیا تھی

موسیقی، موسیقی سے پہلے کیا تھی

سوائے اس کے کہ

اب اٹھاءو اُس پردہ کو جو معلوم نہیں پردہ تھا بھی یانہیں

یعنی تم خود تھے بھی یا نہیں

وہ شاید نگارا ،جو بج رہا تھا اور شاید اس سے

پہلے بھی نگار ا ہی بج رہا تھا

سوال یہ ہے کہ

کتنے نگارے اپنے بجنے یا بجائے جانے کے اثبات میں نگارے کہلائے

پھر یہ کہ نگارے بجائے نہ جاتے تو کیا بجائے جاتے

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے

کہ سر خوشی سرشاری سے جنم لیتی ہے

اور اگر سرخوشی سر میں جنم لے کے پاءوں میں جنم لیتی

تو کیا ہوتا

دنیا نے زمین پر جنم لیا

تو زمین نے کس پر جنم لیا

احمد ہمیش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے