کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط

کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
گل غلط غنچے غلط خار غلط
ہمنواؤں کی نہیں کوئی کمی
بات کیجے سربازراغلط
وقت الٹ دے نہ بساط ہستی
چال ہم چلتے ہیں ہر بار غلط
دل کے سودے میں کوئی سود نہیں
جنس ہے خام خریدار غلط
ہر طرف آگے لگی ہے باقیؔ
مشورہ دیتی ہے دیوار غلط
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے