کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں

کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا
محشر میں وہ نادم ہوں خدا یہ نہ دکھائے
آنکھوں نے کبھی اس کو پشیماں نہیں دیکھا
ہر چند ترے ظلم کی کچھ حد نہیں ظالم
پر ہم نے کسی شخص کو نالاں نہیں دیکھا
ملتا نہیں ہم کو دل گم گشتہ ہمارا
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہیں دیکھا
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کے مجھ کو
جو حال سنا تھا وہ پریشان نہیں دیکھا
کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کسی کی ہے شہرت
کیا تم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا
داغ دہلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے