Kya Sochty Ho

کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی​
وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رُت بیت گئی​

اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول۔ آنکھوں کے دئے​
اک گونجتی آبدھی وقت کی بازی جیت گئی، رُت بیت گئی​

تم آگئے میری باہوں میں، کونین کی پینگیں جھول گئیں​
تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی، رُت بیت گئی​

پھر تہر کے میرے اشکوں میں گلپوش زمانے لوٹ چلے​
پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی، رُت بیت گئی​

اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے، اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا​
اک آس ہنسی، اک یاس سنا کر گیت گئی، رُت بیت گئی​

یہ لالہ و گل کیا پوچھتے ہو، سب لطفِ نظر کا قصّہ ہے​
رُت بیت گئی جب دل سے کسی کی پیت گئی، رُت بیت گئی​

مجید امجد​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے