کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ

کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ
ہم الگ بیٹھے ہیں دستِ ہنر آثار کے ساتھ
چشمِ نمناک لیے، سینۂ صد چاک سیئے
دُور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ
ایک احساسِ وفا کی طرح بے قیمت ہیں
ہم کو پرکھے نہ کوئی دِرہم و دینار کے ساتھ
رنجشِ کارِ زیاں، دربدری، تنہائی
اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ
سینۂ سنگ پہ گل رنگ بہار اُتری ہے
کس نے دیکھا تھا ہمیں ایسے کبھی پیار کے ساتھ
کاوشِ کوہکنی رسمِ محبت ٹھہری
تیشہ زن آج بھی فرہاد ہے کہسار کے ساتھ
سعدؔ رسوائے زمانہ ہے مگر تیرا ہے
یوں نہیں ہوتے خفا اپنے گرفتار کے ساتھ
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے