کیا کہا، ۔۔’’یہ دل مرا نا قابلِ تسخیر ہے؟‘‘

کیا کہا، ۔۔’’یہ دل مرا نا قابلِ تسخیر ہے؟‘‘
اب تجھے پانا ہی میرے خواب کی تعبیر ہے
اک ظالم دل کے ہاتھوں سب یہاں مجبور ہیں
ہے کوئی رانجھا یہاں پر اور کوئی ہیر ہے
منتظر ہوں کب سے تیرے فیصلے کی ہم سفر
اب بتا بھی دے خدارا کیا مری تقدیر ہے!
یوں تو کہنے کو ہمارا ساتھ ہے اک عمر کا
لیکن اپنا ساتھ بھی جیسے کوئی زنجیر ہے؟
چُپ رہو اور خامشی سے بات بس اُسی کی سُنو
زندگی کرنے کی اب تو اک یہی تدبیر ہے
تیرے دل کا حال سب میں جانتی ہوں،ہاں مگر
پڑھ کبھی تُو بھی وہ، جو دل میں مرے تحریر ہے
ذات سے باہر نکل کر جاؤں تو جاؤں کہاں
تیرے غم کی ہر طرف پھیلی ہوئی زنجیر ہے
شام تیری سُرخیوں کی ہے قسم، اُس کے بغیر
سانس لینا بھی مجھے اب جیسے اک تعزیر ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے