کیا بتاوں میں کدھر جاتا ہوں روز

کیا بتاوں میں کدھر جاتا ہوں روز
اور کیا کیا سوچ کر جاتا ہوں روز
ٹوٹ جاتا ہوں ستارے کی طرح
گرد کی صورت بکھر جاتا ہوں روز
روز ہو جاتی ہے انہونی کوئی
باندھ کر رختِ سفر جاتا ہوں روز
اَور کھو آتا ہوں اپنے آپ کو
ڈھونڈنے خود کو مگر جاتا ہوں روز
جس گلی کے موڑ پر بچھڑے تھے ہم
اُس گلی کے موڑ پر جاتا ہوں روز
آخرِ شب اُونگھنے لگتی ہے رات
لڑکھڑاتا میں بھی گھر جاتا ہوں روز
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے