کیا بیابان، کیا نگر جاؤ

کیا بیابان، کیا نگر جاؤ
ایک سا حال ہے جدھر جاؤ

خُود کُشی تک حرام ہے یعنی
یہ بھی ممکن نہیں کہ مر جاؤ

عشق میں ذات کیا، انا کیسی
ان مقامات سے گزر جاؤ

اور آلودہ مت کرو دامن
آنسوؤ! روح میں اُتر جاؤ

سُکھ سڑک پر پڑا نہیں ملتا
کُو بہ کُو جاؤ ، در بہ در جاؤ

میں تو قیدِ مکاں نہ توڑ سکا
اے خیالو! تمھی بکھر جاؤ

جانے کب سے بھٹک رہے ہو شعور
رات ڈھلنے لگی ہے ، گھر جاؤ

انور شعورؔ​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے