کیا بادلوں میں سفر، زندگی بھر

کیا بادلوں میں سفر، زندگی بھر
نہ بنایا زمیں پہ گھر، زندگی بھر

سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں
نہ آیا ہمیں یہ ہُنر، زندگی بھر

محبت رہی چار دن زندگی میں
رہا چار دن کا اثر، زندگی بھر

انور شعور​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے