کٹ رہی ہے زندگی درد کا سماں لیے

کٹ رہی ہے زندگی درد کا سماں لیے
چیختی پکارتی نوحہ اورفغاں لیے
موت کابھی رقص ہےمُفلسی کا دَور بھی
روتےہیں غریب بھی دردکچھ گِراں لیے
کچھ غریب ہیں کھڑے انتظارمیں یہاں
کچھ سخی ہیں آرہے کھانےکا سماں لیے
مرگٸے ہیں لوگ کچھ بھوک سےبھی پھریہاں
چہروں پہ وہ فاقے اور درد کےنشاں لیے
بات میری مان تُوکچھ تو غور کرذرا
پھر رہاہےاب بھی تُوجینےکاگُماں لیے
چل رہی ہےسانس جوشُکرتم ادا کرو
توبتہ النصوح کا ذکر تم رواں لیے
جوگزرگٸی ہےوہ اُس کوبھول جاٶتم
باقی تم گزار دو حمد کا بیاں لیے
جب تمھارا ہو سفر جانبِ خُدا کبھی
حالتِ بھی سجدہ ہو تربہ ترزباں لیے
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے