کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں

کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں
بے وفا ہے و ہ تو اس کو بے وفا ہو کر ملیں
تلخیوں میں ڈھل نہ جائیں وصل کی اکتاہٹیں
تھک گئے ہو تو چلو پھر سے جدا ہو کر ملیں
پہلی پہلی قربتوں کی پھر اٹھائیں لذتیں
آشنا آ پھر ذرا نا آشنا ہو کر ملیں
ایک تو ہے سر سے پا تک سراپا انکسار
لوگ و ہ بھی ہیں جو بندوں سے خدا ہو کر ملیں
معذرت بن کر بھی اس کو مل ہی سکتے ہیں عدؔیم
یہ ضروری تو نہیں اس کو سزا ہو کر ملیں
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے