کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی
کہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئی
دل ستم زدہ کو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
خود اپنے حسن سے یوں بے خبر گیا کوئی
وہ ایک جلوۂ صد رنگ اک ہجوم بہار
نہ جانے کون تھا جانے کدھر گیا کوئی
نظر کہ تشنۂ دیدار تھی رہی محروم
نظر اٹھائی تو دل میں اتر گیا کوئی
نگاہ شوق کی محرومیوں سے ناواقف
نگاہ شوق پہ الزام دھر گیا کوئی
اب ان کے حسن میں حسن نظر بھی شامل ہے
کچھ اور میری نظر سے سنور گیا کوئی
کسی کے پاؤں کی آہٹ کہ دل کی دھڑکن تھی
ہزار بار اٹھا سوئے در گیا کوئی
نصیب اہل وفا یہ سکون دل تو نہ تھا
ضرور نالۂ دل بے اثر گیا کوئی
اٹھا پھر آج مرے دل میں رشک کا طوفاں
پھر ان کی راہ سے با چشم تر گیا کوئی
یہ کہہ کے یاد کریں گے حفیظؔ دوست مجھے
وفا کی رسم کو پایندہ کر گیا کوئی
حفیظ ہوشیارپوری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے