کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے

کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے
کچھ کچھ مرے مزاج میں سنجیدگی بھی ہے
کچھ میری الجھنیں بھی مرے ساتھ ساتھ ہیں
کچھ رسم و راہِ عشق میں پیچیدگی بھی ہے
کثرت سے جس گلی میں ستادہ ہیں شاہکار
دیکھو جو غور سے وہیں نا دیدگی بھی ہے
اس بزمِ دل کشا کی چمک پر نہ جائیے
اس جلوہ گاہِ عام میں پوشیدگی بھی ہے
یہ شہر ہے مثالِ دلِ ملتفت یہاں
جتنا سکوں ہے اتنی ہی شوریدگی بھی ہے
تم جس کو کہہ رہے ہو فقط دل لگی سعید
اس رسم و راہ میں کہیں سنجیدگی بھی ہے
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے