کچھ باتیں

کچھ باتیں
دیس کے ادبار کی باتیں کریں
اجنبی سرکار کی باتیں کریں
اگلی دنیا کے فسانے چھوڑ کر
اس جہنم زار کی باتیں کریں
ہو چکے اوصاف پردے کے بیاں
شاہدِ بازار کی باتیں کریں
دہر کے حالات کی باتیں کریں
اس مسلسل رات کی باتیں کریں
من و سلویٰ کا زمانہ جا چکا
بھوک اور آفات کی باتیں کریں
آؤ پرکھیں دین کے اوہام کو
علمِ موجودات کی باتیں کریں
جابرو مجبور کی باتیں کریں
اس کہن دستور کی باتیں کریں
تاجِ شاہی کے قصیدے ہو چکے
فاقہ کش جمہور کی باتیں کریں
گرنے والے قصر کی توصیف کیا
تیشۂ مزدور کی باتیں کریں
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے