کچھ اور ہو بھی تو رائیگاں ہے

ہوائیں بھی
بادباں بھی میرے
سمندروں کے سکوت میں
بے لباس صدیوں کے ریزہ ریزہ جمال کے سب
نشاں بھی میرے
مرے شکستہ وجود کی لڑکھڑاتی عجلت پہ
گرنے والی شفیق شبنم میں ریت کے آسماں بھی میرے
قدیم نظموں کے غم میں بے حال منظروں کے
جہاں بھی میرے
ستارۂ دل کی وسعتوں میں
گھنے گھنے جنگلوں کے اسرار۔ ۔ ۔ واہمے بھی
گماں بھی میرے
گلاب چہروں پہ
زرد آنکھوں کے رت جگوں میں
نجاتِ غم کی شکستہ خواہش کی راکھ بھی اور بُجھے ہوئے
کارواں بھی میرے
جو کھو گئے
اور جو آنے والے دنوں کا دکھ ہے
وہی مرے بے وجود چہرے،ستارۂ دل کا
پاسباں ہے
کچھ اور ہو بھی تو رائیگاں ہے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے