کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے

کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے
میں پیاس کے رستے پہ سفر کرنے سے پہلے

سانسوں کے تغیر کی ہوا خرچ ہوئی ہے
تجھ سایہ ء مژگاں کو شجر کرنے سے پہلے

اک شور مچایا مری دستک نے سکڑ کر
خاموشی کی دیوار میں در کرنے سے پہلے

لب سبز پرندوں کی چہک سینچ رہے ہیں
آنکھوں کے بنے پنجرے کو گھر کرنے سے پہلے

تا عمر سفر دیکھ مرا صبر کے رتھ پر
کب , کیسے , اگر اور مگر کرنے سے پہلے

عجلت میں فنا ہوتا ہے آواز کا لہجہ
سناٹے کی خواہش پہ اثر کرنے سے پہلے

بیکار میں کیوں ماس جھڑے صبح کا ارشاد
شب خیمہ ء وحشت میں بسر کرنے سے پہلے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے