کر کے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگا

کر کے وفا، پلٹ کے وفا مانگنے لگا
کیا ظرف تھا گھڑی میں صلہ مانگنے لگا
یہ قحطِ حُسن تھا کہ عنایت تھی حُسن کی
ہر شخص اس حسیں کا پتہ مانگنے لگا
جب سے اُسے عزیز ہوئی میری زندگی
میں اپنی زندگی کی دعا مانگنے لگا
سینے سے آہ، آنکھ سے آنسُو طلب کئے
غم کا شجر بھی آب و ہوا مانگنے لگا
ہمدردیاں وہ بعدِ سزا اس نے کیں عدیم
جو بے خطا تھا وہ بھی سزا مانگنے لگا
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے