کوشش کے باوجود بھی رویا نہیں گیا

کوشش کے باوجود بھی رویا نہیں گیا
دامن کا ایک داغ بھی دھویا نہیں گیا
برسے پھر ابر ایسے کہ بس کچھ نہ پوچھئے
وہ بیج بھی اگا کہ جو بویا نہیں گیا
آشفتگی کے زیرِ اثر گزرے رات دن
جاگا نہیں گیا کبھی سویا نہیں گیا
اب بھی تو چونک اٹھتے ہیں ہم اس کے نام پر
دل سے ہمارے وہم سا گویا نہیں گیا
زیبِ گلو کریں تو کریں کس طرح اسے
وہ پھول جو کہیں بھی سمویا نہیں گیا
ہم پر کھلا نہیں کہ وہ کیسا ہے عشق سعدؔ
جس میں کہ اپنا چین بھی کھویا نہیں گیا
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے