کوئی تو بات تھی جو بات ختم کر دی ہے

کوئی تو بات تھی جو بات ختم کر دی ہے
کسی کی ذات پہ اب ذات ختم کر دی ہے
میں اس کے عزمِ مصمم کی داد دیتا ہوں
میری کہانی مرے ساتھ ختم کر دی ہے
ہم اس سے بڑھ کے بھلا احترام کیا کرتے
کہ اس کے سامنے اوقات ختم کر دی ہے
عجیب بات ہے، دل سے نکل نہیں پائی
وہ ایک بات جو اب بات ختم کر دی ہے
بس ایک بار اسے آئینہ دکھایا تھا
پھر اس نے ہم سے ملاقات ختم کر دی ہے
صغیر، یہ بھی بھلانے کا کیا طریقہ ہؤا
کہ سوچ، سوچ کے ہی رات ختم کر دی ہے
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے