کوئی تصویر کجا تیرے حوالوں کے لیے

کوئی تصویر کجا تیرے حوالوں کے لیے
اب تو مکڑی نہیں دیوار۔ پہ جالوں کے لیے
سینہ کوبی کو مرے عشق میں بدعت نہ سمجھ
ڈھول کی تھاپ ضروری ہے دھمالوں۔ کے لیے
بے خودی میں چلی جاتی ہے نظر اسکی طرف
جس کا دیدار ہے مرہم میرے چھالوں کے لیے
ہم نے وہ دن بھی گزارے ہیں کہ راتب تھے بدن
اس پہ لڑنا بھی پسندیدہ نوالوں۔ کے لیے
پیڑ پنچھی جو ہوئے میرے طرف دار تو۔ کیا
میری غزلیں ہیں سبک گام۔ غزالوں کے لیے
کاخ_اولی سے نکل ورطۂ۔ ادراک۔ میں آ
تھوڑا نیچے ہی اتر۔ سوختہ حالوں کے۔ لیے
میرا چہرہ ہے مجھے دیکھنے۔ والوں سے۔ بنا
میری باتیں ہیں مرے سوچنے والوں کے لیے
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے