کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے

کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے
میری خاموشیوں سے کیوں بولے
میں خزاں رنگ ہوں ہمیشہ سے
جسم خوش پوشیوں سے کیوں بولے
در و دیوار تم بھی چپ رہتے
مصلحت کوشیوں سے کیوں بولے
سب کو یہ فکر ہے سرِ محفل
دل طرب جوشیوں سے کیوں بولے
سونا اپنی جگہ پہ سونا ہے
کھوٹ، زر پوشیوں سے کیوں بولے
ہے یہ بہتر حواس کھو جائیں
نیناں مدہوشیوں سے کیوں بولے
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے