ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ ۔ نا ممکن

ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ۔۔۔نا ممکن
آئے دن ہمارے ملک میں کچھ ایسی آئینی ترامیم کا شور سنائی دیتاہے کہ جس سے بیٹھے بیٹھے پورے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ہر طرف بے چینی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔اور اگر ترمیم مذہبی حوالے سے ہو تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنتی ہے اور امن و سکون کے لیے بھی خطرے کا باعث ہوتی ہے کیونکہ پھر احتجاجی مظاہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں کچھ شر پسند عناصر ملک کا امن و امان تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔پچھلے انتخابات سے پہلے بھی اگر ہمیں یاد ہو تو ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کی گئی جس کوعوام کے پر زور اصرار پر واپس لیا گیا۔اب پھر اچانک سے ایک ترمیم سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پرقادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے حوالے سے تبدیلی کا ذکر ہے۔اس پر مزید بات کرنے سے پہلے ختم نبوتؐ کے عقیدے پر بات کرنا ضروری ہے جو ہمارا ایمان ہے بلکہ ہمارا ایمان آقا کریمؐ کی محبت اور اتباع اور آپؐ کوآخری نبیؐ ماننے سے شروع ہوتا ہے اور اسی بات پر ہی مکمل ہوتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ قادیانی کون ہیں؟یہ قادنیت کیا ہے؟تو یہ وہ بد ترین کافر ہیں جو کہ نبی پاکؐ کو آخری نبی نہیں مانتے اور الٹا اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں جب کہ اسلام سے ان کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ہم مسلمان بغیر کسی دلیل کے ہر اس شخص کو کافر مانتے ہیں جو کہ نبی پاکؐ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بہت بڑاعالم ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بڑی سادہ سی بات ہے اورہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کو بھی اس معاملے کی نذاکت کا علم ہے اور اس کا بھی یہ راسخ عقیدہ ہے کہ نبی آخر الزماں ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور جو اس کے برعکس نظریہ رکھے وہ سراسر کافر ہے اور کسی رحم کا مستحق نہیں۔اب بات آ گئی قانونی یا شرعی طور پر ہمارے ملک میں ان کافروں کی کیا حیثیت ہونی چاہیے تو اس میں بھی بات بڑی واضح ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے تو اس معاملے کا حل بھی یقینا ہمیں آقا کریمؐ کی حیات طیبہ سے ہی ملے گا۔
ہمیں علماء حق کے زریعے وہاں سے رجوع کرنا چاہیے۔پہلی بات کہ ہمارے ملک میں ایسے مسائل اٹھتے کیوں ہیں؟اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔پہلی تو بات یہ ہے کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان جو اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تو اس وطن عزیز میں جزا و سزا کے لیے مکمل اسلامی آئین کا نفاذ کیوں نہیں ہے؟اس وجہ سے بھی اب تک کئی اختلافات جنم لے چکے ہیں۔ دوسری بات کہ کیا ہم کسی پلمبر سے مرسیڈیز ٹھیک کرا سکتے ہیں یا کسی حجام سے سرجری کرا سکتے ہیں یا کسی موچی سے موبائل مرمت کرا سکتے ہیں؟نہیں ناں تو پھراس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو جس کام کا اہل ہو وہی اگر کام کرے گا تو درست ہو گا بصورت دیگر خراب ہی ہوگا۔اب یا تو علماء حکمران ہوں یا حکمران عالم دین۔نہیں تو ایسے ہر مذہبی معاملے میں خاص طور پر کہ جس پہ تمام مکتبہ فکر اور مسالک کا باہمی سلوک و اتفاق ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ کسی ایک دو کو نہیں بلکہ ملک بھر کے تمام علماء سے باہمی مشاورت کر کے اور بعد ازاں عوام کو اعتماد میں لے کر ہی کسی قسم کی ترمیم کا قصد کرے۔
کیونکہ قرآن و سنت کے مطابق علماء حق ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔آپ دیکھ لیں پٹرول سستا ہو یا مہنگا ہو حکومت کی مرضی ہے عوام اپنا سا منھ لے کر رہ جاتی ہے کچھ نہیں کرتی۔ٹماٹر چار سو روپے کلو تک پہنچ گئے تھے عوام نے کڑوا گھونٹ پی لیا۔اب رمضان کی آمد پر کھجور اور لیموں کے دام میں تین گنا اضافہ ہو گیا کہیں کوئی احتجاج نہیں ہوا یاکہیں کوئی جلوس نہیں نکلا۔سڑکیں خراب،جرائم کی بھرمار،ہسپتال ادوویات سے محروم،تعلیم مہنگی لیکن یہ قوم ایک لفظ منھ سے نہیں نکالتی،الٹا خود ہی لطیفے بنا کر ہنستی ہنساتی رہتی ہے۔لیکن ختم نبوتؐ کا معاملہ ہویا اس طرح کے کسی اور دینی مسئلے کا معاملہ ہو تو عوام برداشت نہیں کرتی،بے چین ہوتی ہے۔کیونکہ ہم مسلمان کتنے ہی گنہگار کیوں نہ ہوں خطاکار کیوں نہ ہوں لیکن آقاؐ کی محبت میں کہیں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ہمارا تو پرردگار کے پاس ایک بہت بڑا آسرا ہی یہ ہے اور پروردگار کے ہم پر فضل کی نشانی بھی یہی ہے لہذا اسے کسی قیمت پر ہم کھو نہیں سکتے۔ویسے بھی نبی پاکؐ کی محبت ہمارے وجود کا حصہ ہے۔یہ محبت ہماری زندگی ہے اور دونوں جہانوں میں نجات ہے۔ہم عوام کی ضروریات و سہولیات کے حوالے سے مانا کہ کوئی وقعت نہیں لیکن ہر وہ معاملہ جس سے ہمارے مذہبی جذبات جڑے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کا ردو بدل کرنے سے پہلے تمام علماء کی زیر سر پرستی قرآن و سنت کی روشنی میں غور کیا جانا چاہیے اور پھر قوم کے جذبات کو اہمیت دیتے ہوئے پوری قوم کو اعتماد میں لے کر پوری بات سمجھا کر کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔اس سے ملک میں کسی قسم کی انارکی نہیں پھیلے گی نہ ہی کسی کے جذبات مجروح ہوں گے اور ناں ہی کسی احتجاج کی نوبت آئے گی۔
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے