کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا

کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا
یہ 1982 کے موسم بہار کی بات ہے۔ کہکشاں کالونی فیصل آباد کے محرابی گیٹ سے نکلتے ہی حسب معمول میں نے مین روڈ پر چڑھنے سے پہلے کار کا بایاں اشارہ روشن کیا تو کان میں ڈھول کی تھاپ سنائی دی، دھیمی مگر بہت پر کشش۔ آواز دائیں جانب سے آ رہی تھی۔ دیکھا کہ اک ڈھولکیا ڈھول بجاتا جا رہا ہے۔ اب میں نے دایاں انڈیکیٹر چلایا۔ ڈھولکیے کے پاس جا کر گاڑی پارک کی اور ایک محتاط فاصلے پر اس کے پیچھے چلنے لگا۔ بھڑکیلے رنگین لاچے کرتے میں ملبوس وہ مزے سے ڈھول بجاتا جا رہا تھا، شاید کسی درگاہ کی طرف یا کسی میلے ٹھیلے میں شرکت کے لئے۔ مگر تال بہت مزے کی تھی:
تک دھوم تنک
تک دھوم تنک
دھک تاک تا
تک تاک تا
سوچتا رہا کہ یہ کیا بجا رہا ہے۔ 16 چھند ماتروں (Beats) کا چکر ہے مگر مزاج میں نہ تو تین تال کا چلن ہے اور نہ ہی کہروے کی دگن ہے؛ تو یہ کیا ہے۔ اور سم (Final Beat) کو بھی تو چھپا رکھا ہے۔ اس گپت سم کا کھوج لگانا ہے۔اچانک اسے احساس ہوا کہ کوئی تعاقب میں ہے۔ اس نے ڈھول بجانا بند کیا اور مڑ کر دیکھا۔ میں نے قریب جا کر علیک سلیک کی۔ نذرانہ پیش کیا تو اس کی نشیلی آنکھوں میں خوشی کی چمک لہرائی۔ لگتا تھا کہ حضرت نے ساوی کا طرہ بھی لگا رکھا تھا۔ میری فرمائش پر وہ یہی تال کچھ دیر اور بجاتا رہا۔ ڈھول کے پھندنے تھرکتے رہے اور منکوں کی مالا کرتے کے گول شیشوں سے ٹکراتی رہی۔ ہم اب کھیتوں کے بیچوں بیچ چلتے جا رہے تھے جب مجھے ہوش آیا اور میں واپس ہوا۔ بمشکل کار ڈھونڈی اور تال کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے آیا:
تک دھوم تنک تک دھوم تنک دھک تاک تا تک تاک تا
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعل فعلن فعل
تک دھوم جگت میں جوبن قہر سمان کی تک دھوم تو
ڈھول 1982میں سنا تھا، اس تال پر نظم میں نے 2010 لکھی۔ ملاحظہ فرمائیے یہ مستزاد نظم:
ڈھول
منہ زور چلن ہے مست الست شباب کا منہ زور ہے
نت لپٹی مٹھی بھینچ لگامیں کھینچتا کوئی اور ہے
تک دھوم جگت میں جوبن قہر سمان کی تک دھوم تو
وہ جسم کوئی قندیل، ستارا، دھوپ یا بلور ہے
فانوس قبا ہے جسم کی لو اور آنچ کو تصویرتی
ہر جزر میں سایہ بھرتی اور ہر مد کو تنویرتی
مشتاق نظر کی تار سراپا پورتی تحریرتی
ہے انگ انگ میں خوشبو کروٹ پھیرتی مدہوشتی
بے باک نظر کی پہلو دار سپردگی آغوشتی
ہیں شستہ و رفتہ ہاتھ شعاعیں چھوڑتی ہر پور ہے
ہیں سلوٹ سلوٹ ہونٹ سکڑتے پھیلتے گفتار میں
گرداب سراب سحاب ابھرتے ٹوٹتے رخسار میں
دیدار کے بجرے گھوم گھوم کے ڈوبتے منجدھار میں
ہے نارفشانی آنچ بھری چھب چال کی ٹک ناز سے
ہے لوچ سفر میں جنبش جنبش ریشمی انداز سے
ہیجان ہے پرتیں کھولتا نت اعلان سے نت راز سے
دھونتال جمال نہال سنہرا سانولا رس گھولتا
ہر انگ ہے باتیں کرتا شبد بکھیرتا شدھ بولتا
بے تاب نظر کا راج ہنس جھٹکارتا پر تولتا
سمپورن حسن شباب ملا دو آتشہ مخمور ہے
مے خوار نظر ہے خوار نشے میں چور ہے محصور ہے
یہاں جو آیا وہ مات ہوا اک رسم ہے دستور ہے
ہے نظم سراپا شاہد باز عروض ہیں تقطیع کو
اک سیل ہے خد و خال کا پشتے توڑتا تضییع کو
حیران نظر کے خار و خس کی تعن کو تشنیع کو
اس قہر بحر کا کوئی کنارا دوسرا کوئی چھور ہے؟
اس واسطے نظم وحید احمد ہے جھومتی اور ناچتی
ہر بول گمکتے ڈھول کا ہے چھند ماترا چھند چور ہے
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے