کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے

کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے
شاہزادی مجھے دربار نہیں چاہئے ہے
آخری اشک سے اس سوگ کی تکمیل ہوئی
اب مجھے کوئی عزا دار نہیں چاہئے ہے
اس تکلف سے زیادہ کا طلب گار ہوں میں
صرف یہ سایۂ دیوار نہیں چاہئے ہے
اب مقابل مرے اپنے ہیں سو اے رب جلیل
حوصلہ چاہئے تلوار نہیں چاہئے ہے
چاہئے ہے مجھے انکار محبت مرے دوست
لیکن اس میں ترا انکار نہیں چاہئے ہے
آخر اعضا نے مرے ساتھ بغاوت کر دی
اب قبیلے کو یہ سردار نہیں چاہئے ہے
احمد کامران 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے