کوئی خواب ہے کہ سراب ہے

کوئی خواب ہے کہ سراب ہے
کہیں روز و شب کے مدار میں
کہیں رت جگوں کے شمار میں
کہیں تتلیوں کے غبار میں
کہیں چشمِ نم کے کنار میں
کوئی خواب ہے کہ سراب ہے
جو دِل و نگاہ کے درمیاں میری آگہی کا نصاب ہے
کسی چاند میں، کسی پھول میں
کسی رہ گزار کی دھول میں
کسی گہرے راز کی دھُند میں
کسی یاد میں، کسی بھول میں
کوئی خواب ہے کہ سراب ہے
جو دل و نگاہ کے درمیاں میری آگہی کا نصاب ہے
کسی خامشی کے فشار میں
کسی حرفِ گل کے حصار میں
کسی طاقِ جاں کے چراغ میں
کسی شامِ غم کے دیار میں
کوئی خواب ہے کہ سراب ہے
جو دِل و نگاہ کی زد میں آ کے بھی دُور ہے
جو مرے طلسمِ خیال میں
جو مرے عروج و زوال میں
مری ساعتوں کے جمال میں
کسی اَن کہی کا ظہور ہے۔ ۔ ۔ کہیں دور ہے
کوئی خواب ہے کہ سراب ہے
جو دِل و نگاہ کے درمیاں
میری آگہی کا نصاب ہے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے