کوئی کہتا تھا کہ طاری خود پہ سوچیں مت کیا کر

کوئی کہتا تھا کہ طاری خود پہ سوچیں مت کیا کر
جو ترا ہے وہ ملے گا، اتنی فکریں مت کیا کر
یہ کسی کے نام کی ترتیب سے بُک شیلف میں ہیں
اک جگہ سے دوسری میری کتابیں، مت کیا کر
باغ میں جا کر پرندوں سے کچھ اپنے دل کی کہہ لے
بند رہ کر کمرے میں بیکار شامیں مت کیا کر
زندہ ہو جاتے ہیں سارے لفظ جو ہم سوچتے ہیں
اس لیے مجھ سے بچھڑنے والی باتیں مت کیا کر
تُو نے تنہائی کبھی دیکھی ہے؟ خالی پن سُنا ہے؟
گر نہیں تو میرے ملنے کی دعائیں مت کیا کر
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے