کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں
خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں
پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی
جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں
انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے
اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں
پھر اتر آئے ہیں پلکوں پہ سسکتے آنسو
پھر کسی شام کے آنچل کو بھگونا ہے ہمیں
یہ جو افلاک کی وسعت میں لیے پھرتی ہے
اس انا نے ہی کسی روز ڈبونا ہے ہمیں
احمد خیال

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے