کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا

کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا
کہ مجھ کو اس کی گلی کا خدا گدا کرتا
کبھو جو آن کے ہم سے بھی تو ملا کرتا
تو تیرے جی میں مخالف نہ اتنی جا کرتا
چمن میں پھول گل اب کے ہزار رنگ کھلے
دماغ کاش کہ اپنا بھی ٹک وفا کرتا
فقیر بستی میں تھا تو ترا زیاں کیا تھا
کبھو جو آن نکلتا کوئی صدا کرتا
علاج عشق نے ایسا کیا نہ تھا اس کا
جو کوئی اور بھی مجنوں کی کچھ دوا کرتا
قدم کے چھونے سے استادگی مجھی سے ہوئی
کبھو وہ یوں تو مرے ہاتھ بھی لگا کرتا
بدی نتیجہ ہے نیکی کا اس زمانے میں
بھلا کسو سے جو کرتا تو تو برا کرتا
تلاطم آنکھ کے صد رنگ رہتے تھے تجھ بن
کبھو کبھو جو یہ دریاے خوں چڑھا کرتا
کہاں سے نکلی یہ آتش نہ مانتا تھا میں
شروع ربط میں اس کے جو دل جلا کرتا
گلی سے یار کی ہم لے گئے سر پر شور
وگرنہ شام سے ہنگامہ ہی رہا کرتا
خراب مجھ کو کیا دل کی لاگ نے ورنہ
فقیر تکیے سے کاہے کو یوں اٹھا کرتا
گئے پہ تیرے نہ تھا ہم نفس کوئی اے گل
کبھو نسیم سے میں درد دل کہا کرتا
کہیں کی خاک کوئی منھ پہ کب تلک ملتا
خراب و خوار کہاں تک بھلا پھرا کرتا
موئی ہی رہتی تھی عزت مری محبت میں
ہلاک آپ کو کرتا نہ میں تو کیا کرتا
ترے مزاج میں تاب تعب تھی میر کہاں
کسو سے عشق نہ کرتا تو تو بھلا کرتا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے