کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار

کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار
وگرنہ شہر ستم پر وہی عذاب اتار
زمین شہر کو اس درجہ منجمد کر دے
ہر ایک چیخ اٹھے سر پہ آفتاب اتار
ہمیں برہنہ کیا تو نے ہر زمانے میں
زمیں پہ تو بھی کبھی خود کو بے حجاب اتار
ہر ایک ہاتھ میں یا کاسۂ گدائی دے
وگرنہ سب کے لیے رزق بے حساب اتار
میں تیرے نور کا منکر نہیں فلک والے
مگر زمیں پہ کبھی اپنا ماہتاب اتار
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے