کوئی چہرہ کِسی دیوار سے نکلا ہی نہیں

کوئی چہرہ کِسی دیوار سے نکلا ہی نہیں
میں بھی غم خانئہ بازار سے نکلا ہی نہیں

لاکھ سُورج بھی اُچھالے ہیں، اُجالے بھی کئے
ایک سائیہ ہے کہ اشجار سے نکلا ہی نہیں

اُس نے دیکھا تھا نظر بھر کے کچھ ایسے خودکو
آئنہ رنگ کے گلزار سے نکلا ہی نہیں

ہِجر کے پل سے گزر کر بھی وہی صُورت ہے
وہ مرا پیار، مرے پیار سے نکلا ہی نہیں

لاکھ دُنیا یہ بُلاتی ہی رہی اپنی طرف
دل مہکتے ہوۓ اُس غار سے نکلا ہی نہیں

روز محبوب مِرے دل سے دھواں اٹھتا ہے
میں ابھی تک ترے انگار سے نکلا ہی نہیں

محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے