کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے

کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
مگر ذہن یادوں کے اپلے اتارے
میں پلکیں بچھاتی رہوں گی ہوا پر
مجھے ہیں محبت کے آداب پیارے
قبیلے کے خنجر بھی لٹکے ہوئے ہیں
کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہارے
پلٹ کر صدا کوئی آتی نہیں جب
مر ا دل کسی کو کہاں تک پکارے
بنایا ہے تنکوں سے اک آشیانہ
کھڑی ہوں ابھی تک اسی کے سہارے
بہت ذائقوں کو سمیٹے ہوئے تھے
یہ جذبوں کے جھرنے نہ میٹھے نہ کھارے
مسلسل مرے سا تھ چلتی رہی ہے
ہوا دھیرے دھیری، سمندر کنارے
لگاتار روتی ہے لہروں کی پائل
سدا جھیل میں ہیں شکاری، شکارے
کسک میں ہے نیناں بلا خیز سوزش
دہکتے ہیں سینے کے اندر شرارے
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے