کوئی برس نہیں گیا

کوئی برس نہیں گیا
کہ اس کے قرب کی سزا میں
شہر کے سبہی قدر داں
نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے
وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے
اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا
تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں
اگر بکارِ خسروی
کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو
تو سب کلاہ دار،
اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،
کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں
زنانِ مصر کی طرح سے
اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے